July 2, 2020

Uncategorized

رُکئیے۔ پڑھئیے۔ سوچئیے!

خوشگوار ازدواجی زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔؟

کیا یہ محض جسمانی کارکردگی کا نام ہے؟

کیا یہ ایک متواتردن رات جنسی کھیل یا  عمل کا نام ہے؟

کیا یہ کسی دوست سے اپنا جسمانی موازنہ کا نام ہے؟ا

کیا یہ انٹر نیٹ یا پورن موویز کے مطابق جسمانی موازنہ کا نام ہے؟

تک  رسائی کانام ہے؟ Stamina کیا یہ سُنے سُنائے

کیا یہ تخیلاتی سُپرمین بننے کے خواب کا نام ہے؟

ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ نام ہے اپنے جیون ساتھی کے ساتھ مکمل ذہنی اور جسمانی ہم آہنگی کا۔

یاد رکھئیے!۔۔۔ ذہنی آسودگی اور جسمانی آسودگی دونوں الگ الگ کوئی مستقل نتائج نہیں رکھتیں۔

اگر کوئی فرد اپنے جیون ساتھی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے تو محض جسمانی ہم آہنگی یا تعلق تادیر یا قابلِ اطمینان نہیں رہیگا۔

یہ بھی یاد رہے۔۔۔۔ سیکس زندگی نہیں ہے۔ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔

اور:۔ سیکس شجر ممنوعہ بھی نہیں ہے۔ قدرت کا حسین و لطیف انمول تحفہ ہے اسے غیر ضروری روایتی پابندیوں ، جکڑ بندیوں کی بھینٹ چڑھانا کفرانِ نعمت ہے۔

یا دوسری طرف انکا  مادر پدر آزاد بے لگام استعمال قدرت کے عطیے کا بے دریغ زیاں ہے۔

اسے فطرت  کی حدود میں رہتے ہوئے استعمال کرنا ہی متوازن طریق کہلاۓگا۔

فطرت کے تقاضے اور ہمارا عمل جب دونوں ہم آہنگ ہوجائیں تو ازدواجی زندگی کی خوشگوار ی کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے جن کا لفظوں میں بیان ممکن نہیں۔

عموماً جنسی علاج کے لئے جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں انکے مخصوص  معنی متعین نہیں ہوتے یا کم از کم ہر فرد کے ذہن میں انکے مختلف مفہوم ہوتے ہیں۔

مثلاً:۔ مردانہ کمزوری یا نامردی، سُستی، قوتِ باہ کی کمی، مثانے کی گرمی یا کمزوری، پٹھوں کی کمزوری، اعصابی کمزوری، سرعتِ انزال وغیرہ وغیرہ۔

اور ان سب کے لئے کوئی ‘‘اچھی سی’’ دوا طلب کی جاتی ہے یا تلاش رہتی ہے۔

حالانکہ یہ سب علامات ہیں۔ ان کے پیچھے الگ الگ وجوہات ہوتی ہیں مختلف افراد

 میں ایک ہی علامت کی وجوہات بھی مختلف ہوسکتی ہیں۔

یاد رہے ۔۔۔ ان کا کوئی ایک شافی علاج یا واحد دوا نہیں ہوتی۔ سوائے خود کو دھوکہ دینے کے۔

 کیونکہ جب اللہ تعالی کے قوانین لامحدود ہیں اور انسانی علم بھی محدود ، کیا انسانی علم قدرتی قوانین کی مکمل سمجھ اور کنٹرول کا دعویٰ کرسکتا ہے؟  اگر نہیں تو پھر۔۔۔۔۔۔۔ سوچنے والوں کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔

عموماً جو علامات زیادہ پائی گئیں ہیں وہ خواہش میں کمی ، لطف میں کمی، ایستادگی میں کمی مگر بوقت ضرورت ایستادگی ختم۔ وقت کی کمی (اعضائے مخصوصہ) کی نشوونما میں کمی رہ جانا، حادثاتی طورپر عضو کی شیپ میں Genitalia کا شکار ہوکربے رغبت ہوجاتاہے۔ مردانہ (Anorgasmia)(سُرعتِ انزال) جس سے پارٹنر  بےلطفی

  تبدیلی واقع ہونا۔

غلط فہمیاں:

 سب سے زیادہ الزام مشت زنی، جلق، ہینڈ پریکٹس کو دیا جاتا ہے جبکہ یہ لازم نہیں کہ وجہ صرف یہی ہو۔ اسی طرح احتلام ، جریان وغیرہ۔ اگر یہ خدانخواستہ بہت زیادہ ہوں تو دواؤں کی بجائے لائف اسٹائل تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ یہ نارمل فطری عمل ہے۔ جنہیں    کریںSubscribeسرچ کریں  (Better Sex Care)  سمجھنے  کےلئے ہمارے ہاں کونسلنگ دی جاتی ہے اس مقصد کے لیے آپ

                                         – نئی اور پرانی ویڈیوز دیکھیں لائک کریں اور اپنے کمیمنٹ دیں۔ انشاء اللہ مزید ویڈیوز بھی آپ کو ملتی رہیں گی

۔ جسمانی وجوہات1

(اعصابی نظام کی خرابی) ۔ ہارمونز کا غیر متوازن ہونا۔PNP۱۔ شوگر کے بداثرات سے

۲۔ جسم میں چکنائیوں کی زیادتی۔ بلڈ پریشر اور اسکی ادویات کے بد اثرات۔

۳۔ جگر کے امراض یا ہیپاٹئس بی، سی وغیرہ کے اثرات۔ گردے یا اسکے غدود ایڈرینل  کی خرابی۔

۴۔ خون کی بیماریاں یا خون کی کمی۔ خون کی رگوں کی خرابی

Arterial Insufficiency,Venous Leakage، Athero Scleroses

 کی خرابی یا Veno-occlusive system ۵۔ اعضائے مخصوص  کے اندرونی والو

 مسلز کے چمبرز میں خرابی وغیرہ۔Cavernous اس کے

۶۔ سگریٹ نوشی۔ شراب نوشی اور دیگر نشہ آور اشیاء کے بداثرات۔

۷۔ وزن کی زیادتی۔ کولیسٹرول کی زیادتی۔ دل کے امراض اور اسکی ادویات کے بداثرات۔

۸۔ مرگی یا اسکی ادویات کے اثرات۔ تشویش ڈپریشن یا اسکی ادویات کے اثرات۔

۹۔ اعضائے مخصوص پر چوٹ ، کھینچاؤ، جھٹکا یا مروڑ کے اثرات۔

 وغیرہ۔S1 – 2/ L1 – 2 ۱۰۔ ریڑھ کی ہڈی کے امراض خصوصاً

(کام کی زیادتی) کے بدا ثرات۔Over work  یا (Stress Job) ۱۱۔ اسٹریس جاب

آپ خود سوچیں۔۔۔۔۔ کیا ان مختلف اسباب کا کوئی ایک شافی علام ممکن ہے؟

ہرگز نہیں۔ تو پھر آپ کیوں اپنے آپ کو دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں؟

یاد رہے!۔۔۔ ‘‘حقیقی کامیابی کےلئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا’’۔

حقیقی حل کےلئے اسکے حقیقی سبب یا اسباب کی تشخیص کی جانی چاہیے۔ جو مختلف افراد میں مختلف ہوسکتی ہے۔ تبھی تو علاج درست اور مکمل ہوگا۔

۲۔ نفسیاتی وجوہات:

بعض لوگ جسمانی طورپر صحت یاب ہوتے ہوئے بھی اپنی جنسی زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ اسکی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں۔

۱۔ سٹریٹ نالج (سُنی سُنائی باتوں) پر یقین کرکے خود کو مریض سمجھ لینا۔

۲۔ خود اعتمادی کی کمی۔

۳۔ خود ساختہ ناکامی کا خوف۔

۴۔ دوستوں کے ناکام تجربے سے خوف ذدہ ہونا۔

۵۔ تشویش ، ڈپریشن۔

۶۔ ماضی میں کسی غیر محفوظ ماحول کی وجہ سے ناکامی کی یاداشت۔

۷۔ خاندانی مسائل (جھگڑے ، مقدمہ بازی)

۸۔ پارٹنر سے ناراضگی۔

۹۔ کاروباری نقصان۔

۱۰۔ تھکاوٹ۔

۱۱۔ شادی سے پہلے یا بعد اتفاقیہ ناکامی۔

۱۲۔ غیر صحت مندانہ لائف اسٹائل۔

۱۳۔ نیند کی کمی کے اثرات

۱۴۔ غیرفطری سرگرمیاں۔

۱۵۔ خود لذتی جلق کے نقصانات کا غیر حقیقی افسانوی خوف۔

ان تمام اسباب کے لئے کوئی ایک دوا کام نہیں کرےگی، ان میں مخصوص وجہ تلاش کرکے انکے مطابق کونسلنگ دی جائے گی ورنہ کامیابی کا خواب پورا نہ ہوگا۔

خبط دوا ہوگا اور آپ ہونگے نہ مرض جائے نہ دوا     راس آئے گی۔ کبھی ایک ڈاکٹر تو کبھی دوسرا حکیم۔

 کی انفرادیت:۔Men’s Care

۱۔ یہ ادارہ ‘‘ساؤتھ ایشین آرگنائزیشن آف سیکسالوجی (رجسٹرڈ) کے زیرِاہتمام کام کررہا ہے۔ جسکا مقصد ہے:

 نوجوان نسل کو جنسی حوالے سے درست رہنمائی فراہم کرنا تاکہ وہ اپنی خدادادصلاحیتوں کو بہتر استعمال-1

کرتے ہوئے معاشرے کی بہترین تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

 قدرت کے حسین و لطیف تحفے  ‘‘جنسی صحت’’ کے متعلق نام نہاد‘‘ماہرینِ امراض پوشیدہ و مخصوصہ’’-2

کی پھیلائی ہوئی گمرائیوں سے نئی نسل کو روشناس کرایا جائے

Leave a Comment